سی۔ایس۔ایس: ناکامی کا بڑا تناسب


سنڑل سپئیریر سروسز (سی-ایس-ایس) پاکستان میں سب سے بڑا مقابلے کا امتحان ہے جس کے ذریعے پاکستان میں وفاقی سطح پر چوٹی کی آسامیوں کے  لئے بھرتیاں کی جاتی ہیں۔

 ہر سال ہزاروں  امیدواران اس امتحان کا حصہ بنتے ہیں لیکن معمہ یہ ہے کہ محض دو سے اڑھائی فیصد امیدواران ہی اس امتحان کو پاس کر پاتے ہیں۔

 یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی ایسی وجوہات ہیں جو اس امتحان میں بڑی تعداد میں ناکامی کا باعث بنتی ہیں۔

 سب سے پہلے اگر ہم پاکستان کے تعلیمی نظام پر غور  کرتے ہیں تو جو پہلی حقیقت آشکار ہوتی ہے۔    وہ یھ ہے کہ فرسودہ  تعلیمی نظام ہی دراصل سی۔ایس۔ایس جیسے مقابلے کے امتحان میں بڑے پیمانے پر ناکامی کی اصل  وجہ ہے۔  اس اامتحان  میں کامیابی کا بڑا    انحصار ایک امیدوار کی انگلش  کے  مضمون پر  گرفت  ہوتا   ہے جبکہ مقابلے کا  حصہ بننے والوں کی انگلش مضمون کی تعلیم میں ہی  بھت  بڑا فرق ہوتا  ہے ایک  طرف  کچھ امیدواران اے لیول ، او لیول اور ٹاپ یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس امتحان کا حصہ بنتے ہیں تو دوسری طرف ٹاٹ و فرش پر بیٹھ کر آٹھویں جماعت میں پہلی بار اے،بی اور سی سے انگلش کا آغاز کرنے والے بھی اسی  امتحان کا حصہ ہوتے ہیں۔

 پھر بیشک کہ میڑک، ایف۔ایس۔سی اور گریجویشن لیول پر اانگلش مضمون کو لازمی سبجیکٹ کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے اور سی۔ایس۔ایس کا سب سے مشکل پیپر سمجھا جانے والے انگلش ایس۔سے کا پیپر بھی لیا جا رہا ہے لیکن افسوس محض میرا بھترین دوست،قائد اعظم اور علامہ اقبالؒ کی شخصیات پر رٹہ   رٹائے مضمونوں کے لکھنے کی   بنیاد پر امتیازی نمبروں سے  امتحانات پاس کیے جا رہے ہیں۔ چونکہ سی۔ایس۔ایس میں محض کریمنگ سے کام نہیں چلتا نتیجتاً امیدواران  کی ایک  بڑی تعداد  اس  پیپر میں فیل  ہو جاتی    ہے ۔

 اسی طرح سے  پاکستان کی اکثریتی آبادی کا تعلق متوسط اور غریب طبقے سے ہے  اور یہ سی۔ایس۔ایس کے امتحان میں ناکامی کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ ایک تو اس طبقے سے تعلق رکھنے والے امیدواران ولڈ ٹائمز،آفیسرز اکیڈمی   اور ان  جیسی کئی اور  بڑی اکیڈمیز سے تیاری کا سوچ بھی نہیں سکتے  تو دوسری طرف جب یہ بیچارے ماں کے ہاتھ کا  آخری کنگن بیچ کر سولہ سترہ سالہ تعلیمی سفر کے بعد اس امتحان میں بیٹھتے ہیں تو اسی سوچ بچار  اور پریشر میں   فیل ہو جاتے ہیں کہ اگر یہ امتحان نہ پاس کر پائے تو ان کا ، انکے بہن بھائیوں اور بوڑھے ماں باپ کا کیا مستقبل ہو گا؟

 پھر متوسط اور غریب طبقے سے تعلقِ رکھنے والے امیدواران کی بڑی پیمانے پر ناکامی کی وجہ اس طبقے کا کلچر بھی ہے۔ یعنی سی۔ایس۔ایس کے امتحان میں بیٹھنے والوں کی اکثریت وہ ہوتی ہے جنھوں نے اپنی بائیس سے پچیس سالہ زندگی میں مسائل کو الجھانا ہی سیکھا ہوتا ہے۔ مثلاً، انھوں نے اپنے بڑوں سے یہی سنا ہوتا ہے کہ اگر پڑوسیوں نے ہماری گھر کی طرف آنے والی سڑک بند کر دی تو ہم اپنی زمین سے ان کی طرف جانے والی  پانی کی پائپ لائن    بند کر دیں گے۔۔ یوں جب ان طلباء کے سامنے سوال آتاہے کہ افغانستان سے ھونے والی دہشتگردی کا جواب کیسے دیا جائے تو وہ جواب میں  لکھتے ہیں  کہ ان کی تجارتی راہداری بند کر دو۔۔ لینڈ لاک ملک ہے   عقل ٹھکانے آ جائے گی۔۔یوں سال ہا سال کی جارحانہ کلچر ایک امیدوار کو کریٹیکل سوچ سے جواب دینے سے روک کر امتحان میں  فیل ہونے کی بڑی وجہ  بنتا   ہے۔

 پھر سی۔ایس۔ایس پیپرز کی چیکنگ میں اپنائی جانے والی غلط اپروچ بھی اس امتحان میں ناکامی کے تناسب کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ پیپرز میں اس بات کو زیادہ اہمیت دی جائے کہ ایک امیدوار کسی لوکل یا پھر انٹرنیشنل مسئلہ پر کتنی مثبت اور کریٹیکل رائے رکھتا ہے ۔۔لیکن یہاں پیپرز میں  یہ زیادہ اہم  سمجھا  جاتا ہے کہ ایک امیدوار کے پیپر میں  لکھی  انگلش کتنی اچھی ہے۔۔ اگر محض انگلش کے مضمون پر اچھی گرفت ہونا  اچھا بیوروکریٹ بننے کی ضمانت ہے تو پھر شاید گوروں کی غلامی سے نجات کا فیصلہ غلط تھا کیونکہ ان کی انگلش تو بھت اچھی تھی۔

پھر صحیح اور اچھے معلومات کے ذرائعوں کا علم اور ان تک   رسائی کا   نہ ہونا بھی بڑے پیمانے پر ناکامیوں  کی وجہ بنتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ انٹرنیٹ کہ اس دور میں غریب امیر ہر امیدوار اس امتحان میں کامیابی کے لئے بہتر سے بھترین   معلومات حاصل کر سکتا ہے لیکن ایک عام  امیدوار کو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ کون سا یوٹیوب چینل، ویبسائٹ یا پھر کوئی اور ڈیجیٹل سورس اس کے اس امتحان میں کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ 

قصہ مختصر، اس ساری گفتگو کا مقصد ھرگز ہرگز یہ نہیں ہے کہ کوئی متوسط یا غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا سی۔ایس ۔ایس جیسے امتحان کو پاس  نہیں کر سکتا یا پھر فیل ہونے والے سبھی انھی دو کلاسز سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ ساری معلومات اس نقطہ کو ذہن میں رکھ کر کی گئی ہے کہ دراصل یھی دو کلاسز پاکستان کی اکثریتی آبادی کا تناسب رکھتی ہیں لہذاٰ اس امتحان کا حصہ بننے والوں کی اکثریت بھی انھی طبقات سے ھوتی ہے؟؟اور فیل ہونے والوں کی بھی۔۔۔

اختلاف رائے آپکا حق ہے لیکن اخلاقیات کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے۔

   

Comments

Popular posts from this blog

Challenges to Mental Health

Overtourism: A Challenge

Local Governments, Why?